ادارہ اشرف العلوم اپنے منہج ومقصد کے آئینے میں
قرآنی تعلیم
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب ہے ، جو اصلاً اسلامی زندگی کا ایک مکمل دستور ہے، لیکن اس کتاب کی تلاوت بھی مستقل عبادت ہے ۔ حدیث شریف میں تلاوتِ قرآن کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، حتیٰ کہ ایک ایک حرف کی تلاوت پردس دس نیکیوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے ؛ نیز اس کی تلاوت نماز کا ایک اہم بلکہ اعظم رُکن ہے ، بہ غیر تلاوت ِ قرآن کے نماز ہی نہیں ہوتی ،اس لئے ہر مسلمان کو قرآن کریم کا سیکھنا ضروری ہے ۔
قرآن کریم چوں کہ عربی زبان میں ہے اور ہمارے علاقے کے لوگوں کی زبانیں عربی نہیں ہیں اس لئے حکم دیا گیا کہ خواہ کسی بھی علاقے اور کوئی زبان بولنے والے لوگ ہوں انہیں قرآن کریم عربی انداز اور عربی لب ولہجے میں پڑھنا ضروری ہے ، عربی میں بھی پھر اس کا ایک خاص اورنرالا انداز ہے ، اسی وجہ سے ہمارے مدارس میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
قاعدہ اس کے لئے سب سے پہلے ’’ نورانی قاعدہ‘‘ نام کی ایک کتاب پڑھائی جاتی ہے ، اس کے ذریعہ سے تمام عربی حروف کی شناخت اور ان کا اپنے مخرجوں یعنی خاص عربی انداز سے تلفظ کرنا سکھایا جاتا ہے ،اس کے بعد آہستہ آہستہ تمام عربی کلمات کو صحیح طریقے پر پڑھنا آجاتا ہے ، جب اس کا اچھی طرح اطمینان کر لیا جاتا ہے تب اُن کو ناظرہ قرآن مجید کا آخری پارہ دیکھ کر پڑھنے کی مشق اس طرح کرائی جاتی ہے کہ وہ خود ہی اپنے سے ایک ایک آیت پڑھ سکیں ، آخری پارہ پہلے اس لئےپڑھایا جاتا ہےکہ اس میں آیتیں چھوٹی چھوٹی ہیں ، بچوں کو ان کے پڑھنے میں آسانی رہتی ہے ۔تیسویں پارے کے بعد الٓ مٓ سے ناظرہ شروع کرادیتے ہیں ، اور اس و قت تک پڑھاتے ہیں جب تک کہ قرآن مجید دیکھ کر کہیں سے بھی پڑھ لینے پر بچے کو قدرت حاصل ہوجاتی ہے ۔ عصری تعلیم اب اس شعبے کے ساتھ عصری تعلیم بھی چھٹی جماعت تک جوڑ دی گئی ہے ، جس کا نصاب آگے ملاحظہ کرلیں ۔
حفظ جب اتنی روانی آجاتی ہے تو اب حفظ شروع کر ا دیتے ہیں ، پہلے تیسواں پارہ مکمل حفظ کراتے ہیں ، پھر سورۂ الٓ مٓ سجدہ ، سورۂ یٰسٓ ، سورۂ دخان ، سورۂ واقعہ اورسورۂ مُلک یا دلاتے ہیں ، ایک تو اس لئے کہ ان سورتوں کے پڑھنے کی فضیلت آئی ہے تو بچے کو اس کی عادت پڑ جائے ، دوسرے ان میں چار سورتیں ایسی ہیں جن کے بارےمیں حفظ آسان ہونے کے لئے ایک خاص طریقے سے پڑھنے کا حدیث میں حکم آیا ہے تو بچے یہ نماز ’’ صلوٰۃ الحفظ‘‘ بھی بہ آسانی پڑھ لے سکیں گے ، اس کے بعد الٓمٓ سے باقاعدہ حفظ شروع ہوتا ہے اور ایک ایک منزل کرکے پوری سات منزلیں حفظ کروائی جاتی ہیں ،اور ان کے یاد رہنے کا بھی خصوصی انتظام کیا جاتا ہے تاکہ بچہ حافظ بن جائے تو پھراُسے دور کرنے میں وقت لگانا نہ پڑے ۔
دینیات حفظ وناظرہ کے دوران بچوں کو دین کی اور عقیدہ وعبادت کی ضروری باتیں زبانی یا د دلائی جاتی ہیں ، چہل حدیث اور مسنون دعائیں بھی یاد کرائی جاتی ہیں ۔اردو اسی دوران بچے کو اردو لکھنا پڑھنا بھی سکھایا جاتا ہے ۔
تصحیح اسی شعبے میں ایک کام یہ کیا جاتا ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی تدریس (یعنی پڑھانے )کے کام میں لگنا چاہتے ہیں انہیں قرآن کریم صحیح طریقے سے پڑھانے کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے ۔
اسلامی تعلیم
اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین اور دستور ِ اسلامی کا فائنل ایڈیشن ہے ،اس کے اصول میں ذرہ برابر رد وبدل ہونے والانہیں ، ہاں جزوی احکام حالات کے بدلنے سے بدلتے رہتے ہیں ، اس کے لئے ایک مکمل نصاب کے ذریعہ علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کرنی پڑتی ہے ۔اور چوں کہ دین اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن وحدیث ہیں اور وہ عربی زبان میں ہیں اس لئے عربی زبان میں مہارت اور اس کی گرامر سے واقفیت بھی بہت ضروری ہے ،عربی زبان دیگرزبانوں سے کہیں وسیع اور اس کی خصوصیات جداگانہ ہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ دینی اعتبار سے عالم بننا سرسری کام نہیں ہے اور نہ ہی دین کی معرفت سیلف اسٹیڈی سے حاصل ہوسکتی ہے ، اس لئے قدیم زمانے سے اسلامی مقاصد اور اسلامی شریعت کو سمجھنے اور اس میں کمال حاصل کرنے کے لئےایک باقاعدہ نصاب مختلف فنون پر مشتمل پڑھا پڑھایا جاتاہے ، اور ادارۂ ہذا میں بھی اس کا انتظام ہے ۔
چناں چہ حفظ کی تکمیل کے بعد یا بغیر حفظ کے اردو زبان لکھنا پڑھنا اچھی طرح آجانے کے بعد تین سالہ کورس تحتانیہ کے نام سے پڑھایا جاتاہے، اس میں آٹھ گھنٹیاں ہوتی ہیں چار میں عصری مضامین انگلش ؍ تلگو ؍ میاتھس ؍ سوشیل ؍ سائنس پڑھائے جاتے ہیں ، اور چار گھنٹیوں میں دینی مضامین عربی صرف ؍ نحو ؍ سیرت النبی ﷺاور فقہ اسلامی پڑھائے جاتے ہیں ۔اور تیسرے سال کے اختتام پر عصری تعلیم کا بورڈ اگزام بھی ہوجاتا ہے ، پھر تین سالہ کورس وسطانیہ کا ہے ، اس میں قرآن مجید کا ترجمہ ؍ عقائد اسلام ؍ منطق وفلسفہ ؍ عربی گرائمر اور اد ب کی کتابیں ؍ فقہ اسلامی ؍ اور اصول ِ فقہ وحدیث پڑھائے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد تین سال فوقانیہ کہلاتے ہیں ، اور ان میں تفسیر ؍ حدیث ؍ فقہ ؍ اصولِ حدیث ؍ اصول ِ فقہ ؍ عقائد ِ اسلام کی بڑی کتابوںکے علاوہ اصولِ فتاویٰ اور فتویٰ کی ٹریننگ شامل ہے ۔
خارجی مطالعہ ان سالوں کے دوران سیرت النبی ﷺ ؍ سیرت خلفاء وصحابہ ؓ؍ تاریخِ اسلام ؍ جنرل معلومات کا خارجی مطالعہ اور ان کے مسابقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔
انجمن اسی دوران طلبہ کی تحریری وتقریری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اس میں نکھار پیدا کرنے کے لئے ہفتہ واری انجمنیں منعقد کی جاتی ہیں ، جس میں طلبہ حصہ لے کر دعوت کے اصول وآداب کو سیکھتے ہیں ۔
عصری تعلیم
عصری تعلیم سے مراد ماڈرن ایجوکیشن ہے ،ا س دنیا میں باوقار زندگی گذارنے کے واسطے جہاں ایک مسلمان کو دینی تعلیم کی سخت ضرورت ہے وہیں عصری علوم سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم حاصل کرنا بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے ؛ ادارہ اس سلسلے میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے ۔
ماڈل اسکول عصری مضامین کی تعلیم کے لئے باقاعدہ طور پر ایک انگلش میڈیم اسکول ’’اشرف ماڈل اسکول‘‘ کے نام سے چلایا جاتا ہے ، جہاں اسٹیٹ سلیبس کے موافق نرسری تا دسویں جماعت کی تعلیم دی جارہی ہے ، طلبہ کے لئے عصری علوم کے ساتھ قرآن مجید کی باتجوید تعلیم ، دینیات اور اسلامی تربیت کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔
معھد اشرف دسویں جماعت تک پڑھے ہوئے بچوں کے لئے ادارے میں انٹرمیڈیٹ اور ڈگری کے پانچ سال کالج میں مکمل کرتے ہوئے پانچ سالہ عالمیت کورس کے ذریعہ دینی تعلیم مکمل کرنے کا انتظام بھی ہے ۔ یہ شعبہ بھی جاری اور رُو بہ ترقی ہے ۔
دیگر اس کے علاوہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ قرآنی تعلیم اور اسلامی علوم کے شعبہ جات میں بھی ایک نظام کےتحت طلبہ کو عصری تعلیم دی جاتی ہے ۔
انجمن ان شعبوں میں زیر تعلیم بچوں کو دعوتِ دین کا اہل بنانے کے لئے ہفتہ واری انجمنوں اور سالانہ مسابقوں کے ذریعہ مختلف زبانوں میں اظہارِ خیال کی مشق بھی کرائی جاتی ہے ۔
اسلامی تربیت
اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پہلے انسان (حضرت آدم علیہ السلام) کو پہلا نبی بنایا ، اس کے بعد سے لے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک دنیا میں کوئی سوا لاکھ انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ، سب کے بھیجے جانے کا مقصد انسانوں کو اچھی اور پسندیدہ زندگی گذارنا سکھانا تھا ، سب سے آخر میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ میں اچھےسے اچھے اور اعلیٰ درجے کے اخلاق کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ، تمام انبیاء علیہم السلام نے انسانیت کو ترقی دی ہے اور میں نے اس ترقی کی تکمیل کردی ہے ، اور اسی وجہ سے آپ ﷺ کے بعداب کسی نبی کی دنیا کو ضرورت باقی نہیں رہی ۔
دنیا میں ہر انسان زندگی گذار رہا ہے اور زندگی کی ہر ضرورت کو پورا کر رہا ہے لیکن علماءفرماتے ہیں کہ زندگی گذارنے کا جو نبوی اور محمدی طریقہ ہے وہ سب سے آسان ،سب سے مکمل اور سب سے زیادہ باوقار طریقہ ہے ، اسی نبوی طریقے کو سنت کہتے ہیں ؛ مدارسِ اسلامیہ میں اس کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ طلبہ اپنے نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو جانیں اور عمل کریں ۔
چناں چہ ادارہ ہذا میں بھی اس کا نظام بنایا گیا ہے ، جس کے لئے سب سے زیادہ ضرورت دار الاقامہ کی ہے ، بچوں کا ایک جگہ اور مخصوص ماحول میں رہنا تربیت کے لئے بہت ضروری ہے، الحمد للہ صاف ستھرا اور پُرفضا دار الاقامہ موجود ہے ، جہاں طلبہ کی قیام وطعام اور ضروریاتِ زندگی کا ممکن حد تک بہتر انتظام کیا گیا ہے ۔
نظام العمل تربیت کے لئے چوبیس گھنٹے کا نظام العمل بنایا ہواہے ، جس کے ذریعے طلبہ اپنے وقت کا تحفظ کر پاتے ہیں اور اپنی مصروفیات کو منظم رکھ سکتے ہیں۔ نگرانی اسی سلسلے میں تعلیمی اوقات کے علاوہ جتنا وقت ہوتا ہے اوراس میں جو پروگرام رہتےہیں وہ سب نگرانوں کی نگرانی میں انجام دیے جاتےہیں ، تربیت کے لئے کیمرے کافی نہیں ہوتے ،ٹوکنے بتانے والوں کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ نگران ہر کام وقت پر ہونے کو یقینی بناتے ہیں اورمسنون زندگی کی تعلیم دیتے ہیں ، سنتیں چوبیس گھنٹے کے اعمال کو مسنون طریقے پر اور مسنون دعائوں کے ساتھ انجام دینے کے لئے سنتوں کی تعلیم اور دعائیں یاد کرانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یونی فارم لباس اور وضع قطع کا عملی زندگی اور اخلاقی معیار پر فطرتاً اثر ہوتا ہے ، اسی لئے ادارہ طلبہ کو اس کا بھی پابند رکھتا ہے ۔
تبلیغ ودعوت
سب کو معلوم ہے کہ ہمارے نبی ﷺ آخری نبی ہیں اور یہ اُمت آخری اُمت ہے ، ختم نبوت کا تقاضہ یہ ہےکہ اب کوئی اور نبی انسانوں کی ہدایت کےلئے نہ بھیجا جائے مگر انسانوں کی ہدایت وراہ نمائی کی ضرورت تو کبھی نہ ختم ہونے والی ہے ، اس لئے حق تعالیٰ نے اسی اُمت کو دین کا داعی بنایا ، اپنی استطاعت اور علم کے مطابق ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی تلقین کرنا اور بُری باتوں سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ، علماء اور ائمہ کو تو یہ کام بہ طور خاص کرنا ہے ۔لیکن یہ کام جس قدر ضروری ہے اتنا ہی نازک بھی ہے ، اس کے لئے علم کی ، عمل کی ، اخلاق کی ، اور وسائل ِ دعوت کی بہت ضرورت ہوتی ہے ، ورنہ فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے ۔
اس سلسلے میں ادارہ ہذا اپنے ہاں زیر تعلیم طلبہ کو انجمن کے ذریعہ خوش اسلوبی کےساتھ دعوتِ دین کی مشق کا انتظام کیا ہوا ہے ، ہرہفتہ طلبہ اساتذہ کی نگرانی میں اس میں حصہ لیتے ہیں ، لائبریری کے ذریعہ انہیں متعلقہ کتب مختلف زبانوں میں فراہم کی جاتی ہیں ، نیز تقریر کی اہمیت کے پیش نظر تمام طلبہ کو عربی اور انگریزی زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور علاقائی اعتبار سے اپنے اپنے علاقے کی زبان مثلاً تلگو ، مراٹھی ، اور اردو میں اظہارِ خیال کی مشق بھی کرائی جاتی ہے ، اظہار ِ خیال کا دوسرا ذریعہ تحریر ہے ، طلبہ کو اِن مختلف زبانوں میں اظہارِ خیال کے لئے قرطاس وقلم کے استعمال پر اُبھارا جاتا ہے اور اس کی مشق کرائی جاتی ہے ماھنامہ ہر ماہ طلبہ کے ذریعے متعدد ماہنامے نکلوائے جاتےہیں ، جس میں متعلقہ کلاسس کے طلبہ اہم عنوانات پر مضامین لکھ کر اساتذہ سے تصحیح کراکے شائع کرتےہیں ۔وغیرہ
نشر واشاعت
دینی مدارس کا کام اصلاً تحفظِ دین ہے ، یعنی کتاب وسنت کی اور اس کے ذریعہ وجود میں آنے والے عقیدہ ، عبادت ، معاملات ومعاشرت اور اخلاق کے سلسلےمیں تحقیق کرنا اور ان کی صحیح معنوں میں تفہیم وتشریح کرنے والے علماء کو تیار کرنا، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کام میں لگے ہوئے علماء اشاعتِ دین یعنی مذکورہ اُمور کی تفصیلات سے اُمت ِ مسلمہ کو باخبر کرنا اور اُن کے موافق زندگی گذارنے کی دعوت دینا ۔ چناں چہ ادارہ ٔ ہذا نے ابھی تک اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے متعدد اقدامات کیے ہیں ۔
اشرف الجرائد کے نام سے ایک ماہنامہ اردو زبان میں گذشتہ ۲۱؍ سالوں سے بہ پابندی شائع کیا جاتا ہے جو ملک کے مختلف علاقوں میں پڑھا اور پسند کیا جاتا ہے ۔
پیغامِ ہدایت کے نام سے ایک رسالہ تلگو زبان میں ۷؍ سالوں سے شائع کیا جارہا ہے اور تلنگانہ وآندھرا کے مختلف علاقوں میں مسلمان اس سے استفادہ کر رہے ہیں ۔
انگریزی میں بھی ایک رسالے کی اشاعت کا ارادہ ہے ، اللہ نے چاہا تو کم از کم ’’ ای میگزین ‘‘ کی صورت ہی میں سہی اس کا آغاز ہوجائے گا ۔
آڈیوز ؍ ویڈیوز بہت سے تبلیغی آڈیوز بھی انٹر نیٹ اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ عام کئے جاتے رہتے ہیں ، ارادہ ہےکہ بہت جلد ویڈیوز کا سلسلہ بھی ادارے کی سائٹ اور سوشیل میڈیا پر شروع کیا جائے ۔
طباعتِ کتب اس کے علاوہ ادارہ کی جانب سے مختلف مؤقتی اور مستقل موضوعات پر اب تک ۶۴ سے زائد کتابیں تصنیف کرکے شائع کی جاچکی ہیں ،اور ان کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔
یہ کتابیں خود ادارے کی سائٹ پر بھی استفادے کے لئےموجود ہیں ۔وغیرہ ۔
دیہی خدمات
شہروں میں مسلمان جیسے بھی ہیں کچھ نہ کچھ مذہبی شعور اور پہچان رکھتے ہیں، پھر شہر میں وقتاً فوقتاً مذہبی سرگرمیاں بھی مختلف نوعیت کی جاری رہتی ہیں ،جو مسلمانوں کی شعور بیداری کا کام کرتی رہتی ہیں ؛ لیکن دیہات کے مسلمانوں کا حال بہت ابتر ہوتا ہے ، پہلے تو وہ گائوں میں بہت ہی کم تعداد میں ہوتے ہیں پھر غُربت اور تنگ دستی کا شکار رہتے ہیں ، ساتھ ہی ہندو ماحول کے غلبے کی وجہ سے ہندوانہ تہذیب اور رسومات سے متأثر رہتے ہیں ، اُوپر سے کوئی مذہبی مرکز ہوتا ہے نہ مذہبی شعور پایا جاتا ہے ، بس اپنے کو مسلمان کہتے سمجھتے ہیں ، بعض جگہ مسجد ہوتی ہے مگر امام نہیں ہوتا ،بعض جگہ مسجد تک بھی نہیں ہوتی ۔ مزید براں کہیں عیسائیت ، اور کہیں قادیانیت ان کے ایمان کے دشمن بنے رہتے ہیں ۔
ایسے حالات میں دیہی مسلمانوں کے دین وایمان کا تحفظ بہت ہی ضروری ہے ، ادارہ ہذا کے شہر حیدرآباد میں قائم اس مرکزی مدرسے کے فارغ سینکڑوں طلبہ اگرچے کہ اپنے اپنے علاقوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ، خود ادارہ بھی اپنی نگرانی میں جگہ جگہ دینی مراکز قائم کرکے اطراف کے دیہاتوں پر محنت کا کام کر رہا ہے ۔
نارائن کھیڑ قصبے میں ایک مرکز ’’ امداد العلوم ‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا ہے ، اس میں اطراف کے دیڑھ سو سے زائد طلبہ قیام وطعام کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، نیز ’’مدرسۃ الصحابیات للبنات ‘‘ کے نام سے لڑکیوں کی تعلیم کا مدرسہ چل رہا ہے ،اس میں سو سے زائد طالبات علم دین حاصل کررہی ہیں ، اس کے علاوہ گائوں میں جگہ جگہ مکاتب قائم کئے گئے ہیں جن میں چھ سو سے زائد بچے اور بچیاں ضروری قرآنی دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، ماہانہ اجتماع اور دیہی گشتوں کے ذریعہ بھی کام ہورہا ہے ۔
نوی پیٹ میں ’’ احسن المدارس ‘‘ کے نام سے ایک مرکز قائم کیا گیا ہے جس میں سو طلبہ قیام وطعام کے ساتھ تعلیم میں مشغول ہیں ، دو مکاتب مستورات کے لئے قائم ہیں ، جن میں خواتین قرآنی ودینی تعلیم کر رہی ہیں ، ماہانہ اجتماع کے ذریعہ اطراف واکناف کے مرد وخواتین کی دینی فکر یں بیدار رکھنے کی مساعی جاری ہیں ۔
بھینسہ میں ’’ انفع المدارس ‘‘ کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے ، جس میں سلم علاقوں کے دیڑھ سو سے زائد بچے دینی وعصری علوم میں مشغول ہیں مکاتب کا سلسلہ بھی زیر غور ہے۔
دار الافتاء
اُمتِ مسلمہ میں بہ قدر ضرورت دینی تعلیم عام کرنا تو ایک کام ہے ہی ، لیکن پیش آمد ہ مسائل میں اور وقتی ناز ک احکام میں اُن کی فقہی راہنمائی کرنا بہت اہم کام ہے ، اس کے لئے مستقل علم حاصل کرنے اور ٹریننگ لینے کی ضرورت ہوتی ہے ، مدارسِ دینیہ میں اس کا بھی ایک شعبہ ہوتا ہے۔
ادارہ ہذا میں بھی سنہ۲۰۱۱ءسے یہ شعبہ قائم کیا گیا تھا ، اس میں کسی مدرسے سے باقاعدہ طور پر فارغ ہونے والے علماء کو داخلہ دے کر ایک سالہ نصاب کے تحت مندر جہ ذیل ٹریننگ کی جاتی ہے ۔
اصولِ فتاویٰ کی کتب کی تدریس کتب ِ فتاویٰ کا مطالعہ فتویٰ نویسی کی مشق عصری مسائل کی تحقیق اھم عنوانات پر محقق علماء کے خطابات اور آن لائن خدمات ۔
اب تک اس شعبے سے ۱۵۲مفتیان کرام فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
آئندہ اس شعبے کو جدید وسائل سے آراستہ کرکے اور بھی مؤثر ومفید بنانے کی فکریں جاری ہیں ، انشاء اللہ مستقبل قریب میں یہ کام تکمیل پاجائے گا۔
صنعت وحرفت
مسلمانوں کے بہت بچے ایسے ہیں جو نہ دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی عصری علوم پڑھتے ہیں، معمولی قسم کی مزدوریاں کرتے ہیں یا آوارہ گردی کا شکار ہوکر جرائم پیشہ بن جاتے ہیں ، ایسے بچوں کا ذہن تعلیم میں تو نہیں چلتا البتہ ہنر مندی اور کاری گری میں خوب چلتا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسےبچوں کے لئے ایسا ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے جس میں دین کی ضروری تعلیم ،قرآن مجید کی باتجوید تعلیم کے ساتھ متعدد فنون کے سکھانے کا بندوبست ہو ، ساتھ ہی اُن کو صدق وصفائی اور دیانت وامانت کی تربیت بھی دی جائے ۔
ادارے کے سا منے یہ منصوبہ کافی دنوں سے ہے مگر جگہ کی کمی اور وسائل کی قلت سے رو بہ عمل نہ لا یا جاسکا ، اب بھی ارادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسباب بنائیں تو ایک مثالی صنعت گاہ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ مسلم بچے ضائع ہونے کے بجائے اچھے کاری گر بن کر کسب ِ حلال کے لائق ہوں اور ساتھ ہی ان کے دین وایمان کا تحفظ ہو سکے ۔
دین پسند اور دیانت دار کاری گروں کی ہر طبقے میں عزت اور طلب ہے ، اور سماج کے افراد کو زیادہ ضرورت ایسے لوگوں کی ہی ہوتی ہے ، اس لئے یہ بچے بڑے ہو کر بہ آسانی کسبِ حلال کر سکتے ہیں ، اور باعزت وباوقار زندگی گذار سکتے ہیں ۔
