تراویح اور اس کی رکعات

نماز ِ تراویح میں بیس رکعتیں سنت ِموکدہ ہیں ، اور اس کی جماعت بھی سنتِ موکدہ علی الکفایۃ ہے یعنی کچھ لوگوں کا جماعت سے پڑھنا تو بہر حال ضروری ہے ، نماز ِ تراویح کی رکعات کے ۲۰ ہونے پر ائمہ اربعہ نے اتفاق فرمایا ہے، نیز جمہور سلف وخلف کا اس پر مواظبت اور مدوامت کے ذریعہ عملاً اجماع بھی ہوچکا ہے، ائمہ اربعہ میں سے امام مالک ؒ بیس کے علاوہ چھتیس کے بھی قائل ہیں، لیکن ان کے فقہ کی متون میں بیس ہی مذکور ہیں ، اسکے علاوہ یہ سولہ زائد رکعتیں وہ حضرات انفراداً ادا کرتے تھے یا پھر پچھلی شب میں پڑھتے تھے ،اس لئے ’’ تراویح‘‘ سے اسکا تعلق نہیں،نوافل کی قبیل سے ہیں۔
اور تراویح کا سنت ِمؤکدہ ہونا دلائل شرعیہ واضحہ سے ثابت ہے ، چنانچہ عبدالرحمن جزیریؒ فرماتے ہیں:
تراویح مع الجماعۃ کاسنتِ موکدہ ہونا رسول اللہ ا کے فعل سے ثابت ہے ۔ چنانچہ شیخین ؒنے روایت کیا ہے کہ ’’آپ ؐ رمضان کی تیئیسویں پچیسویں اور ستائیسویں شب میں باہر تشریف لائے اور لوگوں کونماز پڑھائی ۔آپ ؐ نے آٹھ رکعتیں پڑھائیں پھر لوگوں نے باقی رکعتیں گھر جاکر پوری کیں ‘‘
اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ آپ ا نے مسلمانوں کے لئے تراویح مع الجماعۃ کو سنت قرار دیا، دوسرے اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ تراویح کی رکعتیں صرف آٹھ ہی نہیں تھیں بلکہ اس سے زائد تھیں ۔ اسی لئے تو یہ لفظ ذکر کیا گیا ہے کہ ان لوگوں نے باقی رکعتیں گھر جاکر پوری کیں ۔ رہ گیا یہ سوال کہ اس حدیث سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو آپ ؐ نے یہ نماز پابندی سے پڑھی ہے اور نہ ہی بیس رکعتوں کا اہتمام فرمایا ہے ، بلکہ صرف تین مرتبہ پڑھی وہ بھی صرف آٹھ رکعتیں ! اس کا جواب یہ ہے کہ سنت تو آپؐنے بیس رکعت ہی قرار دی تھیں لیکن چونکہ آپؐ کو اس نماز کے فرض ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے جماعت سے پابندی نہیں کرائی ۔ جیسا کہ بعض روایات میں صراحۃً آیا ہے پھر جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے عملاً اس کی سنیت کواس طرح ظاہر فرمایاکہ لوگوں کوباجماعت بیس رکعتوں کی ادائیگی کا پابند فرمایا اور تمام صحابہ ثنے عملاً اس سے اتفاق فرمالیا ، پھر آپ ؐ کے بعد کے دونوں خلفاء راشدین یعنی حضرت عثمان ص ،اور حضرت علیص بلااختلاف اس پر عمل فرماتے رہے ، اور ان کے بعد سے آج تک امت بتواتر اسی عمل پر قائم ہے ۔
ادھر ابودائود کی حدیث اور بہت سی روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے اپنی طرح خلفاء راشدین کے طریقہ کوبھی مضبوطی سے تھامنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کو ضروری قراردیا ہے ، خصوصاً جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے ، امام ابوحنیفہ ؒ سے کسی نے حضرت عمرص کے اس عمل کے بارے میں پوچھاکہ حضرت عمر ص نے کس بنیاد پر یہ عمل جاری کرایا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تروایح سنت ِ موکدہ ہی ہے، اس کو حضرت عمرصنے اپنے نفس کی خواہش سے نہیں جاری کیا کیونکہ وہ متبع ِ سنت تھے بدعت کے جاری کرنے والے نہیںتھے۔ماکان عمر مبتدعاً ۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ نماز ِتراویح اور اس کی بیس رکعتوںکے مسنون ہونے پر نہ صرف یہ کہ صحابہ ٔ کرا مؓ کااجماع ہوا ہے بلکہ غیر مقلدین کو چھوڑ کر پوری ملتِ اسلامیہ بشمول ائمہ اربعہ ؒکا اس پر اتفاق ہے ،انہوں نے ہر زمانہ میں اسی کے موافق عمل فرمایا ہے، او رآج بھی سارے عالم کے مسلمان عوام وعلماء کا اسی کے موافق عمل ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے بعد اجماع ِ امت ہی اصولِ دین کی تیسری اصل ہے ، اس کے باوجود حیرت ہوتی ہے کہ یہ غیر مقلدحضرات خود کو تو پاسبان ِ دین اور مجتہد فی الاسلام تسلیم کرلیتے ہیں مگر خلفاء ثلاثہ یعنی حضرت عمرص ، حضرت عثمان ص ، حضرت علی صاور تمام صحابہؓ و تابعین ؒ اور ائمہ کرام ؒ کے اتفاق و اجماع سے ثابت شدہ اس مسئلہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس عمل کو ’’بدعت ‘‘ قرار دے کر رد کر دیتے ہیں ، مزید برآں اس کو حضرت عمرص کی طرف منسوب کرکے انہیں بدعتی بنا ڈالتے ہیں ،افسوس ! کہ خود تو ہوگئے پکے متبعِ سنت اور خلیفہ ٔثانی اور وزیر ِ نبوی یعنی حضرت عمرصٹھیرے بدعت کے مجرم !تُف ہے اس اندھے پن پر ۔
چونکہ دین کے اس اجماعی مسئلہ کے سلسلہ میں غیر مقلدین کی جانب سے بہت سی بے بنیادباتیں شائع بھی کی جاتی رہتی ہیں ۔ اور حسبِ عادت مخاطب پر رعب ڈالنے اور اپنی حقانیت ظاہر کرنے کیلئے ایسی احادیث وآثاربطور دلیل پیش کرتے ہیں جن کانہ نفسِ مسئلہ سے کوئی تعلق ہوتا ہے او ر نہ ہی وہ اہل علم کے نزدیک ان کے دعوے کی دلیل بن سکتی ہیں ،چنانچہ ایسے مضامین پڑھ کر بعضے عوام بلا تحقیق اسے قبول بھی کر لیتے ہیں ۔ اس لئے عمومی استفادہ کے مد نظر ہم حضرت مولانا محمدتقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کی تحقیق کاایک حصہ جو اس باب سے متعلق ہے پیش کرتے ہوئے اپنی بات کو ختم کرتے ہیں ۔ یقین ہے کہ ایک متلاشی حق کے لئے یہ مضمون نہایت کافی ثابت ہوگا ۔وھو ھذا
(تراویح کی)یہ بیس رکعتیں حضرت عمرص نے مقرر فرمائی ہیں،اس وقت صحابہ کرام ؓ کی بہت بڑی تعدادمدینہ میں موجود تھی، ان میںسے کسی نے بھی حضرت عمرص کے اس عمل پر نکیر نہیںفرمائی بلکہ اس پر عمل کیا، اور اس کے بعد(سے آج تک )تمام صحابہؓ وتابعین ؒ اس پر عمل کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ (عہد صحابہ ؓ ہی میں) بیس رکعت پر صحابہ کرا م ؓ کااجماع منعقد ہوگیاتھا، اگر صرف اسی ایک دلیل کو لیاجائے تو(بھی نفس ِ مسئلہ کے ثبوت کیلئے یہ ) بالکل کافی ہے۔ کیونکہ اگر بیس رکعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہوتیں تو حضرت عمرؓ سے زیادہ بدعات کا دشمن کون ہوسکتا تھا ؟ اور اگر بالفرض ان سے کوئی غلطی ہوتی توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جان دینے والے صحابہ کرام ؓ (سب کے سب ملکر )اس کوکیسے گوارا کر سکتے تھے ؟(چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ ) یقینا ان حضرات کے پا س نبی کریم ا کاکوئی قول یا فعل ضرور موجود تھا، خواہ وہ ہم تک صحیح سند کے ساتھ نہ پہنچ سکا ہو، اس کی تائید حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی مرفوع روایت سے بھی ہوتی ہے جو حافظ ابن حجر ؒ نے’’ المطالب العالیۃ ‘‘ میں ’’مصنف ابن ابی شیبہ ‘‘ اور’’ مسند عبد بن حمید ‘‘کے حوالے سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ا رمضان میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھایا کرتے تھے، یہ حدیث اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن اجماع اور تعامل ِ صحابہ ؓ سے اس کی تائید ہونے کی بنا ء پر اس میں قوت آگئی ہے ۔ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ’’صحیح بخاری ‘‘کی ایک حدیث اس کے معارض ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ نبی کریم ا کے بارے میں بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ا رمضان میں اور اس کے علاوہ بھی کبھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رمضان میں بھی وتر کے علاوہ آٹھ رکعتوں سے زیادہ تراویح نہیں پڑھتے تھے ، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ بخاری کی یہ حدیث تراویح کے بار ے میںنہیں بلکہ تہجد کے بارے میں ہے ۔ اسکے جواب میں غیرمقلدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نماز ِتراویح ونماز تہجد دونوں ایک ہی چیز ہیں اور یہ ثابت نہیں کہ آنحضرت ا رمضان میں دو قسم کی نمازیں الگ الگ پڑھتے ہوں ۔ لیکن غیرمقلدین کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے اس لئے کہ تراویح آنحضرت ا کے عہد میں بھی حضرت عمرص کے عہد میں بھی ہمیشہ اول ِ شب میں پڑھی گئی ہے جب کہ تہجد کی نماز آخر شب میں پڑھی جاتی تھی۔ چنانچہ حضرت ابو ذرص کی حدیث باب میں تئیسویں، پچیسویں اور ستائیسویں شب میںجوتراویح کی جماعت کا ذکر ہے ان تینوں راتوں میں اول شب میں تراویح پڑھی گئی ، نیز آنحضرت ا نے تہجد کی کبھی باقاعدہ جماعت نہیں فرمائی اور حضرت ابو ذرص کی حدیث میں تراویح کے لئے باقاعدہ جماعت ثابت ہے، لہذا تہجد وتراویح کو ایک قرار دینا بالکل غلط ہے،رہ گیا حضرت عائشہ ؓ کا ارشادکہ رمضان ہو یا غیر ِرمضان آپ ؐ تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے تو ان کے اس ارشادسے تراویح کی بیس رکعتیں پڑھنے کی نفی نہیں ہوتی (کیونکہ یہ واضح ہوچکا کہ تراویح اور تہجد دو علاحدہ نمازیں ہیں ہاں !اس ارشاد سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ رمضان کی وجہ سے حضور اکی تہجد کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی،)بلکہ حضرت عائشہ ؓ کی دوسری روایات اس (مسئلہ میں جمہور ہی) کی تائید کرتی ہیں۔ مثلاًان کا یہ ارشاد ’’رسول اللہ ا رمضان میں (عبادات میں) اتنی محنت فرماتے تھے جتناغیر رمضان میں نہیں فرماتے تھے ‘‘۔ اگر رمضان یا غیررمضان میں بالکل فرق نہیں تھا تو اس حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث کاکیا مطلب ہوگا؟ اس کے جواب میں بعض غیر مقلدین یہ توجیہ کرتے ہیں کہ اس سے قیام کا طویل کرنا مراد ہے نہ کہ رکعتوں کا زیادہ کرنا ۔ لیکن اول تو یہ بعید ہے کہ ساری رات میں آپ ؐکل آٹھ رکعتیں ہی پڑھتے ہوں دوسرے مؤطا امام مالک ؒ میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت میں’’کثرصلوا تہ ‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں جو غیر مقلدین کی اس توجیہ کی تردید کرتے ہیں، اسلئے کہ یہ تکثیر تہجد میں توہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ فر ماچکی ہیں کہ رمضان وغیر رمضان میں تہجد کی رکعات میں اضافہ نہیں ہوتاتھا لامحالہ یہ تکثیر تراویح کے ذریعہ تھی ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرص سے جس طرح بیس رکعات تراویح مروی ہے اسی طرح گیارہ وتیرہ اور اکیس رکعتیں بھی ثابت ہیں ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ یہ ابتداء کا واقعہ ہے جب کہ صحابہ کرام ؓ کے مشورہ سے بیس رکعت پر عمل کا استقراء اور اجماع نہیں ہوا تھا ،جس کی دلیل یہ ہے کہ جب سے بیس رکعات شروع ہوئیں اس کے بعد سے تمام صحابہ ؓ وتابعین ؒ کا تعامل اسی پر جاری ہوگیا ۔ اور ائمہ اربعہ بھی اس پرمتفق ہوگئے ۔ لہذا استقراء امر سے پہلے کی روایات سے استدلال کرنا اصول کے خلاف ہے ۔واللّٰہ سبحانہٗ و تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم
ان تمام تفصیلی دلائل کے ذریعہ یہ بات کافی حد تک روشنی میں آچکی ہے کہ تراویح کا سنت موکدہ ہونا اور اس کی رکعات کابیس ہونا ہی صحیح اور ثابت ہے، اسکے بعدبھی اگر کسی کو کچھ اشکال ہواور دل مطمئن نہ ہو تو ہم اس سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو ،مگر حضرت عمرصکے حکم اور ان کی سنت سے ثابت ہو، اور تین خلفاء راشدین ، صحابہ ؓ وتابعین ؒ ، اور ائمہ مجتہدین کا اجماع ہوگیا ، دیڑھ ہزار برس کے عام وخاص مسلمین نے اسے بدل و جان قبول کیااور اس پر تواتر وتوارث کے ساتھ عمل کرتے چلے آرہے ہیں تو کیا ایسے عمل کو آپ بدعت قرار دے کر مسترد کر دیں گے ، اور اگر کریں گے تو کس دلیل سے ؟ اور آپ کا یہ طرز ِ عمل رسول اللہا کے خلفاء وصحابہ ؓ اور جمہور علماء کے طرز ِ عمل کے مقابلہ میں کیا وقعت رکھتا ہے؟ جبکہ خلفاء راشدین خصوصاً حضرت عمرصکے بارے میں نبی کریم ا ارشاد فرماتے ہیں’’ جو شخص تم میں سے میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا، پس تم لوگ ایسے وقت میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں سے مضبوط پکڑ لو ، نئی نئی باتوں میں پڑنے سے احتراز کرو، کیوں کہ ہر نئی بات بدعت اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ ۔ غور فرمایا جائے کہ اس حدیث میںہر نئی بات کو بدعت اور گمراہی قرار دے کر اس سے بچتے رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے ، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ میرا طریقہ تو سنت اور نجات دہندہ ہے ہی میرے خلفائے راشدین کی سنت بھی واجب الاطاعت اور لائق تمسک اور بدعت سے بچنے کا ذریعہ ہے، اس واضح ہدایت کے بعد زیر بحث مسئلہ میں حق تک پہونچنے کا اس کے علاوہ اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ اس پہلو کو اختیار کرلیا جائے جس کی جانب خلفاء راشدین اور اجماعِ امت ہیں، کیونکہ یہی سنت ہے اور اسے اختیار نہ کرنا ہی بزبانِ نبوت بدعت ہے ۔
حضرت عمرص کے بارے میں جن کے عمل کو نبی کریم ا سنت فرماتے اور غیر مقلدین بدعت قرار دیتے ہیں چند ارشاداتِ نبویہ اور ملاحظہ کرلیں ۔
’’ مجھے نہیں معلوم کہ میری زندگی کتنی باقی رہ گئی ہے ( اس لئے میں تم لوگوں کو تاکید کردیتا ہوں کہ ) میرے بعد تم لوگ ابوبکر ؓ و عمر ؓ کی اتباع کرو ‘‘۔ نیز آپؐ کا ارشاد ہے کہ’’ تم سے پچھلی امتوں میںبعض بعض لوگ ایسے ہوتے تھے کہ انہیں منجانب اللہ کچھ باتیں القا کی جاتی تھیں ،اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہے تو وہ عمرؓ ہے‘‘ یہ بھی آپ ؐ کا ارشاد ہے کہ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ حضرت عمرؓ کی زبان سے حق کوجاری کراتا ہے اور وہ حق ہی بولتے ہیں ۔
یہ ہے حضرت عمر صاور ان کے فیصلوں کے بارے میں نبی کریم ا کا وہ اعتماد جس کی وجہ سے رسول اللہ ا نے امت کواپنے بعد ان کی اتباع کا امر فرمایا ہے ،اب اگر امام ابنِ تیمیہ ؒ یا چند اور علماء کو تراویح وتہجد میں فرق نہ کرنے کی اجتہادی غلطی کی وجہ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اشتباہ اور سنت ِ عمری واجماع ِ صحابہ ؓ سے ذہو ل ہوگیا ، جس کی بناء پر انہوں نے تراویح کی آٹھ رکعتیں مسنون قرار دیدیں تو سوچنا چاہیے کہ آیا ان کی اس غیر اجماعی تحقیق کو اجتہادی خطاء اور تفرد ِ مجتہد کے درجہ میں رکھ کر اجماعی تحقیق کو اختیار کرلیا جائے یا اس تفرد کو اختیار کرکے جمہو رِ امت اور صحابہ کرام ؓ کے موقف کو چھوڑ دیا جائے ، فیصلہ آپ کے ضمیر کے ذمہ میں ہے ؎
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے
وما علینا الا البلاغ