علم کو معرفتِ الٰہی کا ذریعہ بنائیں
ادارہ اشرف العلوم میں طلبہ کے درمیان تربیتی نشست سے حضرت ناظمِ ادارہ کا خطاب
مورخہ ۲۷؍جون ۲۰۲۶ مطابق ۱۱؍ محرم الحرام ۱۴۴۸ ھ کو الحمد للہ! ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں طلبہ کے لیے ایک نہایت اہم تربیتی و اصلاحی نشست منعقد ہوئی، جس میں حضرت ناظمِ ادارہ مولانا عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے طلبہ کو علمِ دین کے حقیقی مقصد، طالبِ علم کی ذمہ داریوں، حسنِ اخلاق، عبادات، امانت داری اور عملی زندگی کی اصلاح کے حوالے سے نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز نصائح فرمائی۔
اپنے خطاب میں حضرت والا نے فرمایا کہ علم دین کا حقیقی مقصد محض درسگاہ سے فراغت، اسناد کا حصول یا امتحانات میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرنا نہیں، بلکہ علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ہے، طالبِ علم کا ہر سبق اسے اپنے رب کے مزید قریب کرے، اس کے دل میں خشیتِ الٰہی پیدا کرے اور اس کی زندگی کو اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ سنت کا عملی نمونہ بنا دے، یہی علم کی حقیقی برکت اور اس کا مطلوب ثمرہ ہے، یہ علم اس لیے ہے تاکہ رب کو جانیں اور جاننا اس لیے ہے کہ پھر اس کی ماننے لگ جائیں، یہی مقصد بعثت ہے اور یہی انبیاء کی دعوت ہے اور یہی حاصل زندگی ہے۔
فرمایاکہ عزیز بچو! علم ہمارے لئے سعادت بھی بن سکتا ہے اور ہم پر حجت بھی، اگر علم ہمارے اخلاق، کردار، عبادات اور معاملات میں مثبت تبدیلی پیدا نہ کرے تو ایسا علم ہمارے لیے نفع کے بجائے وبال اور قیامت کے دن حجت بن سکتا ہے، حضرت والا نے اس موقع پر حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا کہ: "بعض طلبہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ پلنے کے لیے آتے ہیں۔” اس تنبیہ کے ذریعے طلبہ کو اپنے مقصدِ تعلیم کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی تلقین فرمائی کہ وہ اخلاص، سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ علم حاصل کریں۔
آپ نے نبی کریم ﷺ کی یہ جامع دعائیں بھی ذکر فرمائیں: «اللّٰهُمَّ عَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي» اور «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ»، اور فرمایا کہ طالبِ علم کو ہمیشہ علمِ نافع کا طالب رہنا چاہیے، کیونکہ حقیقی علم وہی ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، تقویٰ، حسنِ عمل اور اصلاحِ باطن سے آراستہ کرے۔
حضرت والا نے طلبہ کو تلقین فرمائی کہ ہر کوئی یہ سوچے کہ اس نے زندگی کا ایک بڑا اور قیمتی حصہ مدرسہ کی چہار دیواری میں لگایا ہے، اس علم نے اس کے اندر کیا بہتری پیدا کی، ہر کوئی روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کریں، باادب اور بے ضرر بنیں، ساتھیوں کی تعلیم میں معاون ثابت ہوں، مدرسہ کی املاک کو پوری امت کی امانت سمجھتے ہوئے ان کی حفاظت کریں، کیونکہ ان میں خیانت یا نقصان پہنچانا شرعاً موجبِ مواخذہ ہے، اس موقع پر یہ خوش آئند بات بھی ذکر فرمائی گئی کہ بعض طلبہ نے گزشتہ ایک تا ڈیڑھ سال کی مسلسل محنت کے نتیجہ میں اپنی تمام قضا نمازیں ادا کرکے صاحبِ ترتیب ہونے کی سعادت حاصل کی ہے، جو دیگر طلبہ کے لیے بھی باعثِ ترغیب ہے۔
حضرت والا نے فرمایا کہ والدین اور امت نے طلبہ سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، والدین اپنی مشقت ومحنت کی کمائی ان کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں اور امت اپنے قیمتی صرفہ سے ہماری ضروریات کا تکفل کررہی ہیں، اس لیے ہر طالبِ علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو بہترین اخلاق، پاکیزہ کردار، حسنِ عبادت اور خدمتِ دین کے ذریعے عملی زندگی میں نمایاں کرے، حتی کہ فرمایا اگر کوئی شخص حلال روزی کمانے والا، دیانت دار، نمازوں کا پابند اور حرام سے بچنے والا ہو تو وہ ایسے عالم سے بہتر ہے جو علم حاصل کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہو اور اللہ کا باغی بنا ہوا ہو۔
لہٰذا ہر طالبِ علم کو اپنے وقت اور صلاحیتوں کو صحیح مقصد کے لیے صرف کرتے ہوئے ایک بافکر، باارادہ اور بامقصد طالبِ علم بننے کی کوشش کرنی چاہیے، دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمام طلبہ کو علمِ نافع، اخلاص، خشیتِ الٰہی، حسنِ اخلاق اور علم و عمل کی برکتوں سے مالا مال فرمائے اور انہیں دینِ اسلام کا مخلص خادم بنائے۔ آمین
پیش کردہ :
مولانا مفتی محمد مجیب الرحمٰن تمیم قاسمی
استاذ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ