ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں 25 سالہ اعترافِ خدمات کا تاریخی اجلاس

ادارۂ اشرف العلوم حیدرآباد میں ربع صدی سے دینی علوم کی تعلیم و تربیت اور خدمتِ دین کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے قدیم اساتذہ و کارکنان کے اعزاز میں ’’جلسۂ اعترافِ خدماتِ طویلہ‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار اور یادگار اجلاس 17 ستمبر 2026ء بروز جمعرات منعقد ہوا۔ صبح 9 بجے سے دوپہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ادارے کے قدیم و سابق اساتذہ، علماء، فضلاء، سابق طلبہ، موجودہ اساتذہ اورمتعلقین سمیت تقریباً سات سو افراد نے شرکت کی۔

یہ اجلاس ادارۂ اشرف العلوم کے پچیس سالہ تعلیمی و تربیتی سفر میں مسلسل اور طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے اساتذہ و کارکنان کی مخلصانہ کاوشوں کے اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ادارے کے قدیم اساتذہ کے ساتھ ان سابق طلبہ کو بھی مدعو کیا گیا جو اپنے مادرِ علمی سے دیرینہ تعلق رکھتے ہیں، جس سے تقریب میں ماضی کی یادیں تازہ ہوئیں اور ادارے سے وابستگی کے جذبات نمایاں ہوئے۔

پروگرام کا آغاز ادارے کے اولین و سابق استاذ الاساتذہ حضرت مولانا خواجہ کلیم الدین اسعدی صاحب مدظلہ، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن قاسمی صاحب مدظلہ اور موجودہ شیخ الحدیث ثانی حضرت مفتی اسعد اللہ قاسمی صاحب کے تمہیدی کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد نائب ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا مفتی عبد العزیز اللحجی صاحب مدظلہ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، جس میں ادارے سے اپنی دیرینہ وابستگی اور قدیم اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

بعد ازاں سابق طلبہ کو اپنے تاثرات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ مختلف احباب نے اپنے زمانۂ طالب علمی کی یادیں، اساتذہ کی شفقتیں اور ادارے کے ابتدائی دور سے متعلق واقعات بیان کیے، جس سے مجلس میں جذباتی اور روح پرور کیفیت پیدا ہوگئی۔ متعدد سابق طلبہ نے ادارے اور اس کے ذمہ داران سے اپنی دیرینہ وابستگی اور محبت کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ناظمِ ادارہ حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے خصوصی خطاب فرمایا۔ حضرت نے اس تقریب کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ادارے کی عمارتوں اور ظاہری تزئین و آرائش سے زیادہ اہمیت ان جیتے جاگتے انسانوں کی ہے جن کی محنت، وفاداری اور اخلاص سے کوئی عمارت ایک حقیقی ادارہ بنتی ہے۔ اسی احساس کےتحت ادارے سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے اساتذہ و کارکنان کی خدمات کے اعتراف کا یہ سلسلہ شروع کیا گیا۔

حضرت ناظمِ ادارہ نے بتایا کہ ادارے سے وابستگی کے دوران وفات پانے والے بعض اساتذہ و کارکنان کے اہلِ خانہ کو بھی اس اعزاز میں شریک کیا گیا۔ مجموعی طور پر 39 اساتذہ و کارکنان کےاعترافِ خدمات میں ادارہ کے بام ودر نے سلامی پیش کی، جن میں بعض حضرات کوتیس برس  سے بھی زائد عرصہ تک ادارے کی خدمت شرف واعزاز حاصل ہے۔ اس موقع پر  اُنھیں  اور ان کے اہلِ خانہ کی خدمت میں قیمتی اعزازات واسنادات  اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔

حضرت ناظمِ ادارہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر وابستگانِ ادارہ کو بالخصوص پانچ امور کی وصیت فرمائی: (۱)معیتِ الٰہی کا دائمی استحضار، (۲) اتباعِ سنت کا اہتمام، (۳)دینِ اسلام کی سربلندی کی فکر، (۴)کسی نئے دینی مکتب کے قیام کی کوشش، اور (۵)اہل اللہ کی صحبت کا التزام۔ حضرت نے قدیم اساتذہ کی استقامت و وفاداری کو موجودہ نسل کے لیے قابلِ تقلید نمونہ قرار دیا اور دینی خدمت کو اخلاص و احساسِ ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھنے کی تلقین فرمائی۔

 ادارۂ اشرف العلوم کے 25 سالہ تعلیمی و تربیتی اعترافِ خدمات کا یہ مبارک وباوقار اجلاس دعا کے بعد اختتام پذیر ہوا،نمازِ ظہر اورظہرانے کا اہتمام ہوا، جب کہ بوقتِ رخصت تمام شرکائے اجلاس کو ادارے کی جانب سے ایک نفیس بیگ اور منتخب مطبوعات بطورِ ہدیہ پیش کی گئیں۔

یہ اجلاس ادارۂ اشرف العلوم کی ربع صدی پر محیط علمی و تربیتی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ قدیم و جدید وابستگان کے درمیان تعلق و محبت کی تجدید اور آئندہ نسلوں کو اخلاص، وفاداری اور استقامت کے ساتھ دینی خدمت جاری رکھنے کا پیغام دینے کے اعتبار سے ایک یادگار موقع ثابت ہوا۔ فجزاء ھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاءورزقھم اللہ ابتغاء وجہہ وتقبل اللہ حسناتھم 

پیش کردہ :   مولانا مفتی محمدمجیب الرحمٰن تمیم قاسمی

(استاذ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد)