الحمد للہ!مورخہ ۲۹؍ ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ مطابق 16 جون ۲۰۲۶ء کو ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں حکیم الامتؒ لائبریری کی جدید تعمیر و ترتیب سازی کی تکمیل کے موقع پر ایک مختصر مگر نہایت بابرکت اور علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں جملہ اساتذۂ کرام اور ذمہ دارانِ ادارہ نے شرکت فرمائی۔
اس موقع پر ناظمِ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد حضرت مولانا عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے مختصر مگر فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ تمام علوم و معارف کا اصل سرچشمہ قرآنِ مجید ہے، یہی وہ کتابِ ہدایت ہے جس کے علوم و معارف کی توضیح، تشریح اور تفہیم کے لیے صدیوں کے دوران بے شمار کتابیں تصنیف کی گئیں، اس اعتبار سے علومِ اسلامیہ کے وسیع ذخیرے پر مشتمل ہزاروں کتابیں درحقیقت اسی کتابِ الٰہی کے معانی، مطالب اور ہدایات کی شرح و توضیح کی حیثیت رکھتی ہیں۔
حضرت والا نے فرمایا کہ اہلِ علم کا حقیقی سرمایہ کتابیں ہیں اور علمی ارتقاء کا راستہ مطالعہ، تحقیق، تتبع اور مسلسل جستجو سے ہو کر گزرتا ہے، کتاب کا مطالعہ انسان کو صرف مطلوبہ مسئلہ تک نہیں پہنچاتا بلکہ دورانِ مطالعہ بے شمار ایسے علمی نکات، فوائد اور معلومات بھی حاصل ہوتے ہیں جو اس کے فکر و نظر کو وسعت بخشتے اور علمی بصیرت میں اضافہ کرتے ہیں، اسی لیے اکابر اہلِ علم نے کتاب سے تعلق کو علم کی بقا اور ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ علمِ نافع میں اضافہ کی دعا خود اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو سکھائی، حالانکہ آپ ﷺ کو اولین و آخرین کے علوم سے نوازا گیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
جب سید الانبیاء ﷺ کو بھی علم میں اضافے کی دعا سکھائی گئی تو اہلِ علم کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ کسی علمی مقام پر قناعت نہ کریں، بلکہ مسلسل مطالعہ، تحقیق اور پیہم جستجو کے ذریعے علم کے نئے افق دریافت کرتے رہیں اور ترقی کے اعلیٰ مدارج طے کریں۔
حضرت والا نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ عصرِ حاضر میں اگرچہ موبائل فون اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مطلوبہ معلومات فوری طور پر دستیاب ہو جاتی ہیں، لیکن ان ذرائع میں وہ علمی ذوق، تتبع، استقصاء اور وسعتِ مطالعہ پیدا نہیں ہوتی جو کتابوں کے ساتھ طویل رفاقت سے حاصل ہوتی ہے، چنانچہ مطالعۂ کتب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان میں تحقیقی مزاج، فکری پختگی اور علمی گہرائی پیدا کرتا ہے۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر حکیم الامتؒ لائبریری کی توسیع اور ازسرِ نو ترتیب کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جو بفضل اللہ تعالیٰ اب پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اس منصوبہ کے تحت تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کی نئی کتابیں لائبریری میں شامل کی گئی ہیں، جبکہ مزید متعدد اہم اور نادر علمی ذخائر کی شمولیت ابھی متوقع ہے، اس لیے علم دوست اور اہلِ ثروت حضرات سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس علمی خدمت میں اپنا حصہ شامل کرکے اشاعتِ علم کے اس مبارک مشن کو مزید مستحکم بنانے میں تعاون فرمائیں گے۔
نشست میں تمام اساتذۂ کرام اور ذمہ دارانِ ادارہ شریک رہے، آخر میں مختصر ضیافت کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
پیش کردہ : مفتی محمدمجیب الرحمٰن قاسمی استاذ ادارہ ہذا

اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب کے مشفق ومربی حضرت ناظم صاحب مدظلہ کی صحت وعمر میں خوب برکت عطاء فرمائیں اور خوب قدر دانی کی توفیق مرحمت فرمائیں
اور برقی مطالعہ سے کہیں زیادہ ہم سب کو کتابوں سے خاص طور پراجمع اللکتب قرآن مجید کی تلاوت واستفادہ کی توفیق عطاء فرمائیں
اور ہمارے مدرسہ کی لائبریری اور مدرسہ کو ظاہری وباطنی مزید ترقیات سے مالا مال فرمائیں آمین یا رب العالمین