طلبِ علم میں شوق، محنت اور اخلاص ضروری ہے

ادارہ اشرف العلوم میں طلبہ کے درمیان تربیتی نشست سے حضرت ناظمِ ادارہ کا خطاب

مورخہ۸؍ اگست ۲۰۲۶ء مطابق ۲۲؍ صفر  المظفر  ۱۴۴۸ ھ کو الحمد للہ! ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں طلبہ کے لیے ایک نہایت اہم تربیتی و اصلاحی نشست منعقد ہوئی،   جس میں ناظمِ ادارہ  حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے طلبہ سے خطاب فرمایا، حضرت والا نے طلبہ کو طلبِ علم کی حقیقت، وقت کی قدر، اچھی صحبت کی اہمیت، اسلاف کی علمی محنت اور موجودہ دور کے مختلف فتنوں سے حفاظت کے سلسلے میں اہم اور ضروری نصائح فرمائیں۔

حضرت والا نے فرمایا کہ طالب علم کی زندگی میں صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے، کتنے ہی طلبہ اپنے ساتھیوں کی وجہ سے برباد ہوگئے، تعلیم چھوڑ بیٹھے اور اپنی زندگی کا رخ بدل بیٹھے، بعض لوگ دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے پیچھے ایسی خرابیاں چھوڑ جاتے ہیں جو دوسروں کے لیے نقصان کا سبب بنتی رہتی ہیں، اس لیے طالب علم کو اپنے ساتھیوں اور اپنے ماحول کے انتخاب میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔

آپ کے والدین اپنی اولاد سے دوری برداشت کررہے ہیں، انہیں آپ کی ضرورت بھی ہے، لیکن وہ آپ کی دینی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے اس جدائی کو برداشت کررہے ہیں، آپ کے والدین اور ادارہ کے معاونین کی طرف سے آپ پر اتنا سرمایہ صرف کیا جارہا ہے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اس وقت اور وسائل کو ضائع نہ کریں جو اس کے لیے فراہم کیے جارہے ہیں، اپنی تعلیم اور تربیت کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی آخرت و عاقبت برباد نہ کریں، فرمایا کہ الصلاة على وقتها کی پابندی طالب علم کی زندگی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے

حضرت والا نے طلبہ کی سبق کے ساتھ پابندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض طلبہ بیماری اور شدید اعذار کے باوجود سبق میں حاضر ہوتے اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، جبکہ بعض معمولی سستی کی وجہ سے سو جاتے ہیں اور اپنے قیمتی اوقات ضائع کردیتے ہیں۔ یاد رکھنا! محض ظاہری انتظام، نگرانی اور ہوشیاری سے کوئی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا، جب تک اس کے اندر طلبِ علم کا سچا شوق اور اچھا جذبہ پیدا نہ ہو۔

موبائل فون کے استعمال کے سلسلے میں بھی حضرت والا نے طلبہ کو متنبہ فرمایا کہ موبائل اس وقت طالب علم کے لیے بئس القرین یعنی ایک خطرناک ساتھی بن گیا ہے، طالب علم اپنے اندر خود احتسابی اور اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرے۔ جس کے دل میں خوف خدا ہو وہ ہر جگہ بچا رہتا ہے، بعض طلبہ یہاں رہتے ہوئے نگرانی اور ماحول کی وجہ سے اپنے آپ کو بہت سی برائیوں سے بچالیتے ہیں، لیکن گھر جانے کے بعد ایسی چیزیں اپنے ساتھ لے آتے ہیں جو دل کو آلودہ کردیتی ہیں۔ پھر برائیوں اور گندگی کی وجہ سے تحصیلِ علم میں دل نہیں لگتا، طالب علم کو ایسی زندگی اختیار کرنی چاہیے کہ مدرسہ سے باہر بھی اس کی دینی کیفیت اور پاکیزگی باقی رہے۔

حضرت والا نے فرمایا کہ سلف کے نزدیک علمِ دین اور اس کے حصول سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں تھی، آج ہمیں بھی اپنے اندر وہی شوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قربِ قیامت علم کے اٹھ جانے کا ذکر احادیث میں آیا ہے، اور علم کے اٹھ جانے سے مراد صرف کتابوں کا ختم ہوجانا نہیں بلکہ علماءِ ربانی کے دنیا سے اٹھ جانے کے ذریعے علمِ حقیقی کا کم ہوجانا ہے، آج وسائلِ علم بہت بڑھ گئے ہیں، معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ علماء اور علمِ حقیقی بھی اسی نسبت سے بڑھ گئے ہیں۔

حضرت والا نے موجودہ دور کے ذرائعِ معلومات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آج موبائل اور مختلف جدید ذرائع کے ذریعے بہت سی معلومات چند لمحوں میں حاصل ہوجاتی ہیں، مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بھی مختلف مواد تیار ہوجاتا ہے، لیکن طالب علم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وسائلِ علم میں اضافہ علم میں اضافہ نہیں ہے، اصل علم وہ ہے جو اہلِ علم سے حاصل ہو، تحقیق سے گزرے، دل میں اترے اور انسان کی زندگی میں اس کا فائدہ ظاہر ہو، لہذا آسانی کا ذوق ہمیں علم کی صداقت سے محروم کردے گا، طالب علم کو سہولت کا عادی بننے کے بجائے تحقیق، محنت اور اہلِ علم سے استفادہ کا مزاج پیدا کرنا چاہیے۔

 پیش کردہ : 

مولانا مفتی  محمد مجیب الرحمٰن تمیم قاسمی 

استاذ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد