مورخہ ۳۰ ذی قعدہ ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۸ مئی ۲۰۲۶ء کو طبیب الامت، مرجع العلماء والصلحاء حضرت حکیم کلیم اللہ صاحب دامت برکاتہم (رکن و سرپرست مجالسِ شوریٰ: دارالعلوم دیوبند و مظاہر علوم سہارنپور) کی ادارہ اشرف العلوم، حیدرآباد میں قبیلِ مغرب بابرکت آمد ہوئی۔ آپ نے ادارہ کی مسجدِ اشرف میں نمازِ مغرب ادا فرمائی، بعد ازاں طلبہ سے اصلاحی و تربیتی گفتگو فرمائی۔
افادۂ عام کی غرض سے چند بیش بہا نصائح قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش ہیں۔

✍️ ناقل:
خویدم عبد الملک انس عفی عنہ
خادمِ تدریس: ادارہ اشرف العلوم، حیدرآباد

دعوتِ فکر و عمل
ارشاد فرمایا: قرآنِ مجید کی آیت:  “وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ”    میں اللہ تعالیٰ نے پوری سائنس بیان فرمادی ہے۔ اس میں غور کرنے سے معرفتِ رب نصیب ہوتی ہے اور عمل کی دعوت بھی ملتی ہے۔ اس لیے علم حاصل کرو معرفت کے لیے اور عمل کے لیے۔
مثلاً سورج کی روشنی نافع بھی ہے اور مضر بھی۔ ضرورت کے بقدر ہو تو نفع دیتی ہے اور ضرورت سے زیادہ ہو تو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی طرح انسان کے اعضاء سے سرزد ہونے والے اعمال، اگر ضرورت کے تحت ہوں تو فائدہ مند ہیں اور بے ضرورت ہوں تو نقصان دہ۔ جیسے ذکر و تلاوت انسان کی روح کی ضرورت ہے، لہٰذا زبان سے یہ کام صادر ہوں تو فائدہ مند ہیں، اور جھوٹ، دھوکہ اور غیبت — جو ہر اعتبار سے انسان کے لیے بے ضرورت ہیں — ان میں دنیا کا بھی نقصان ہے اور آخرت کا بھی۔ چنانچہ اسی زبان سے سرزد ہونے والا عمل مضر ثابت ہوتا ہے۔
لہٰذا ہر چیز کا اتنا ہی استعمال اختیار کرنا چاہیے جو انسان کے لیے نافع ہو۔ نفع و نقصان کے اعتبار سے معروفات و منکرات کی اسی تقسیم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اسی کا نام بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی چیز میں نفع بھی رکھا اور نقصان بھی، اور دونوں کا اختیار بھی دیا، مگر کسبِ نفع کا پابند کیا اور ضرر سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ اسی کو ابتلا کہتے ہیں اور اسی میں کامیاب ہونا ہے۔

اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیں

ارشاد فرمایا: جو طلبہ امداد لیتے ہیں اور ان کے پاس اسمارٹ فون بھی ہے، تو ان کے لیے مدرسہ سے امداد لینا کیسے جائز ہوا؟یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، اور اس سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

تربیت سے اصلاح ہوتی ہے
ارشاد فرمایا: مدارس میں تربیت کا مستقل نظام ہونا چاہیے۔ ہردوئی میں ایک طالب علم تھا، اسے مدرسہ سے امداد ملتی تھی۔ پھر کچھ دنوں بعد اس کے والد نے اسے کچھ رقم لاکر دی، تو وہ طالب علم خود دفتر میں آکر کہنے لگا:  “میرے پاس پیسے آگئے ہیں، اب میری امداد بند کردیجیے۔”  یہ تربیت ہی کا اثر ہے۔

طلبہ کے لیے تین نصیحتیں
۱۔ پڑھائی میں انہماک
۲۔ اساتذہ کا احترام و اکرام
۳۔ وقت کا عدمِ ضیاع

اساتذۂ کرام کے لیے تین نصیحتیں
۱۔ نمازوں کی پابندی
۲۔ اوقاتِ کار کی پابندی
۳۔ طلبہ پر شفقت

جہالت کو علم سے اور علم کو عمل سے بدلیں
ارشاد فرمایا: انگریزی کی دو اصطلاحات ہیں:
Known
Unknown
یعنی “جانا ہوا” اور “نہ جانا ہوا”۔ معلوم سے نامعلوم کو پہچاننے کی کوشش کی جاتی ہے، لہٰذا دین کی جتنی باتوں کا علم ہے، ان کی قدر کرتے ہوئے ان باتوں کو بھی جاننے کی کوشش کریں جن کا علم نہیں ہے، پھر عمل کے ذریعے اپنی زندگی کو مزین کریں۔
حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن ہونے والے سوالات میں ایک اہم سوال یہ ہوگا:
“ماذا عمل فيما علم”

علم، عمل اور معرفت
علوم کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ دینی علوم
۲۔ عصری علوم
پھر دینی علوم کی بھی دو قسمیں ہیں:
۱۔ علومِ آلیہ
۲۔ علومِ عالیہ
علومِ آلیہ — جو قرآن و سنت تک پہنچنے اور قرآن و سنت کو دوسروں تک پہنچانے میں معاون ہیں — ان میں وقت، حالات اور معاشرتی ضرورت کی بنیاد پر تبدیلی ممکن ہے۔
مگر علومِ عالیہ، جو قطعی، حتمی اور نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔
نیز ارشاد فرمایا کہ علومِ عصریہ کی مختلف اعتبارات سے کئی قسمیں ہیں۔ ان میں:
سائیکالوجی — جو انسان کے ذہن، رویّے اور نفسیات سے متعلق علم ہے، اور اس کا کچھ حصہ سائنسی و طبی میدان سے بھی متعلق ہوتا ہے — اس کا حاصل کرنا دین و دنیا دونوں کی بہتری کے لیے مفید ہے۔ اس سے فرد کی تشکیل، تہذیب اور اصلاح کے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں۔
اسی طرح فیزیالوجی (منافع الأعضاء)اس علم سے بھی اللہ کی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے اور اپنی ذات کی اصلاح میں مدد ملتی ہے۔
اور بایولوجی (قدرتی علوم) کے ذریعے معرفتِ رب میں مدد ملتی ہے۔
بہرحال، نفسیات کی رعایت، اخلاقِ کریمہ کا مظاہرہ، اور آفاق و انفس میں غور — دراصل وہی علوم ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں موجود ہیں، اور آپ ﷺ نے ان کے حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔

بگڑتے حالات کا حل
آج پوری دنیا کی پریشانیوں کی وجہ ہماری شامتِ اعمال ہے۔ اس جانب توجہ دینے اور اپنے اعمال کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
“إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”
نیز حکمت کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف پالیسیاں بنانے والوں کے دلوں میں سائنٹفک اور لاجیکل انداز میں اسلام کی حقانیت پیدا کرنے والی سعی کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ اس کا اثر ہوگا۔

درود شریف کا اہتمام ہو
اخیر میں ناظمِ ادارہ حضرت مولانا عبد القوی صاحب دامت برکاتہم کی جانب خصوصیت کے ساتھ متوجہ ہوکر فرمایا کہ درود شریف کا خوب اہتمام ہونا چاہیے، اور اس جانب سب کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔
پھر اپنے بارے میں فرمایا:“میں کل جب دہلی سے چلا تو قیام گاہ سے لے کر جہاز کے حیدرآباد میں لینڈ کرنے تک نہ کچھ کھایا نہ پیا، صرف درود شریف پڑھتا رہا، تو الحمد للہ پانچ ہزار مرتبہ درودِ پاک کا ورد ہوگیا۔”
پھر فرمایا:اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ہمیں اس کا باغی بن کر استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے نیک بندے بن کر استعمال کرنا چاہیے، یہی تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اتقوا الله”  لہٰذا گناہوں اور نافرمانی میں اس کی نعمتوں کو استعمال کرنے سے ڈرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر یہی ہے کہ ہم اس کے باغی نہ بنیں بلکہ نبی کریم ﷺکی سچی اطاعت کے ذریعے اس کے فرماں بردار بندے بنیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:“لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ” اس لیے ہمیں شکر گزار بندہ بننا چاہئیے۔
پھر حضرت کی مختصر سی دعا پر اس خوبصورت اور بابرکت نشست کا اختتام عمل میں آیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان قیمتی باتوں کو صحیح طور پر سمجھنے، ان سے استفادہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیقِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔