تعطیلاتِ ششماہی کے موقعہ پر بڑی جماعت کے طلبہ کو حضرت  ناظم صاحب مدظلہٗ کی خاص نصیحت 

عزیز طلباء! آپ لوگ امتحان سے فارغ ہو کر ششماہی کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے اپنے گھر جارہے ہو ، یہ سوچ کے جاؤ کہ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے، اس مہینہ کو نبی پاکﷺ سے نسبت ہے، ولادت کے اعتبار سے بھی، اور وفات کے اعتبار سے بھی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اسی مہینہ میں تشریف لائے، اسی مہینے میں دنیا سے رخصت ہوئے، محققین کے مطابق اس مہینہ کی ۹؍ تاریخ کو تشریف لائے، اسی مہینہ کی ۱۲تاریخ کو دنیا سے تشریف لے گئے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ۲۳؍ سالہ نبوت کا دور، اور ٦٣ سالہ آپ کی اپنی بشری زندگی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے، آپ لوگ اس مبارک مہینہ میں چھٹی پائے ہیں؛ کوشش کریں کہ آپ لوگوں کا یہ وقت نبی ﷺ کی سیرت و سوانح جاننے ، اور اس کی تحقیق و معرفت میں گزر جائے، ربیع الاول کے حوالہ سے اس مہینہ میں لوگ طرح طرح کے خرافات کر رہے ہیں، آپ لوگ سیرت النبی کو تدبر کے ساتھ پڑھنے میں اس وقت کو صرف کریں ، سیرت النبیﷺ کی کوئی بھی ایک کتاب حاصل کرلیں، شرط یہ ہے کہ مصنف سچا عاشقِ رسول ہو، اور ساتھ ساتھ محقق عالم بھی ہو، مثلاً حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’سیرت المصطفیٰ ‘‘ہے ؛ مولانا کاندھلوی ایک محقق عالمِ دین بھی ہیں؛ اور ساتھ ساتھ سچے عاشقِ رسول بھی ہیں، کہیں سے دو اور کہیں سے تین جلدوں میں چھپی ہے ، ہر سینیئر طالب علم کوشش کرے کہ اس کتاب کو از اول تا آخر ایک ایک بات کو سمجھ کر پڑھے ،مولانا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو عنوانات قائم فرمائے ہیں، ہر عنوان کو تین مرتبہ پڑھ کے سمجھنا چاہیے کہ اس عنوان میں کیا ہے، انہوں نے پورا مضمون عنوان میں لے لیا ہے،اگرچہ عبارت ادق ہے، پھر اس کے بعد اس کے ذیل میں تحقیقات نقل فرمائی ہیں، دوسری خوبی اس کتاب کی یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کے مصنف سے بعض امور کی تحقیق میں جو فروگذاشت ہوئی تھیںاس کی جمہور کے مطابق تحقیق فرمائی ہے ۔ اس کتاب میں بعض چیزیں ایسی تھیں جس سے فکری اعتبار سے جمہور کو اتفاق نہیں تھا، علامہ شبلی نعمانی پر فکری اعتبار سے سلفیت کا اثر تھا، اس کی وجہ سے ان کی بعض تحقیقات جمہور کی تحقیقات سے ہٹی ہوئی تھیں، ’’سیرۃ المصطفیٰ‘‘ کے مطالعے سے ہمارے ذہن کی اور فکر کی اصلاح بھی ساتھ ساتھ ہوتی چلی جاتی ہے، ایسے مقامات پر انہوں نے تفصیل سے کلام کیا ہے، دلائل بھی پیش کیے ہیں۔یہ دھیان میں رہے کہ اہلُ السنۃ والجماعت کی جو فکر ہے، وہی علمائے دیوبند کی فکر ہے، اس سے ان طالب علموں کی جو عالم بننے جا رہے ہیں تربیت بھی ہوگی کہ ہماری فکر سنت اور سیرت کے بارے میں کیا ہے، نبی کریم ﷺکے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے کسی پہلو اور کسی زاویے سے آپ کے بلند مقام پر کوئی اثر نہ پڑنے پائے –
اسی طرح ہمارے اکابر کی کتابوں میں ایک کتاب ’’النبی الخاتم ‘‘ہے، یہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے، ( آپ اصلاً گیلان کے رہنے والے تھے،گیلان بہار کے ایک چھوٹے سے دیہات کا نام ہے،دار العلوم دیوبند میں شیخ الہند اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہما اللہ جیسے اساطینِ علم سے اکتسابِ علم کیا ، فراغت کے بعد حیدرآباد آکر عثمانیہ یونیورسٹی میں ملازم ہوگئے تھے، اور پھرسقوطِ حیدرآباد تک یہیں رہے، بڑے صاحبِ نظر عالم اور مؤرخ تھے) آپ کی کتاب ’’النبی الخاتم ‘‘مختصر سی کتاب ہے، بس چھوٹا سا رسالہ ہے، مضمون کے اعتبار سے اتنا مختصر ہے کہ ہر پیراگراف سیرت کا ایک مکمل مضمون ہے، اختصار کا اگر کوئی اعجازدیکھنا چاہے تو یہ کتاب ہے، حضور علیہ السلام کی ولادت سے وفات تک زندگی کا کوئی ایسا ٹاپک انہوں نے نہیں چھوڑا ہے جو کسی بڑے سے بڑے مصنف نے لکھا ہو،بل کہ بعض پہلو نادر بھی ہیں، سب کو سطر دیڑھ سطر میں لکھا ہے، انہوں نے دیکھنے کے واسطے اپنی یہ کتاب حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجی، تاکہ حضرت اس کے اوپر کوئی تقریظ لکھ دیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جب کتاب کو دیکھا کہ بڑے بڑے مضامین دو تین سطروں میں جمع کردیئے گئےہیں، تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک ہی سطر میں تقریظ لکھ دی کہ ’’ماشاءاللہ مناظر احسن کے سارے ہی مناظر احسن ہیں‘‘، حضرت نے بھی ایجازِبلیغ سے کام لیا ، یہ کتاب بھی سیرت نگاری کی اقسام میں ایک منفرد قسم اور عاشقانِ مصطفی کے عجائبات میں ایک اعجوبہ ہے، جن کی اردو اچھی ہو انھیں اس کتاب کو بھی پڑھنا چاہیے، اس کو پڑھنے سے بہت اختصار کے ساتھ پوراخلاصہ سیرت ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہےکہ تفصیل و تحقیق کے ساتھ جو کتاب مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے وہ بھی پڑھنا چاہیے، اور جب آدمی کی فکر اپنے بڑوں کی فکر کے رنگ میں رنگ جائے، اس کے بعد ’’سیرت النبی‘‘ کا بھی مطالعہ کرنا چاہئیے، اس سے بھی بہت سی اُن تاریخی حقائق کا علم ہوتا ہے جو علامہ شبلی کی تحقیقات ہیں، ان کی بھی ایک شان تھی، ان کی اپنی شان کے مطابق اُن کی تحقیقات ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنی چھٹیاں اپنے نبی ﷺکی محبت و معرفت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور چھٹیوں کو کسی معصیت کا وسیلہ اور ذریعہ نہ بنائے، صرف دعا کافی نہیں، دعا کرتے ہوئے کوشش بھی کریں کہ اس مبارک مہینہ کا(جو آدھا حصہ چھٹی کے نام پہ مل رہا ہے) اس کا کوئی لمحہ معصیت کے حوالے نہ ہوجائے، ایک ایک لمحہ کی حفاظت اور قدر کرنا چاہیے ، اور سنت و سیرت سے والہانہ تعلق کا ثبوت دینا چاہیے، اللہ توفیق نصیب فرمائے آمین۔

پیش کردہ :   مولانا مفتی محمد احمد علی قاسمی

(استاذ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد)