عازمین ِ حرمین کیلئے قیمتی تحفہ
(اکابر رحمہم اللہ کی قیمتی نصیحتوں کی روشنی میں)
افادات : حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم
یہ سن ۲۰۰۸ ء کی بات ہے کہ راقم سطور (محمد عبد القوی) حرم شریف میں حاضر تھا ، معلوم ہوا کہ ہوٹل قصر السلام مکہ مکرمہ میں حضرت پیر صاحب کی مجلس ہونے والی ہے تو میں بھی بغرض ِ استفادہ حاضر ہوگیا تھا ، آدھے گھنٹے کی اس مجلس میں جو بیان ہوا اُسے اشارۃً قلم بند کرلیا تھا ، کسی ضرورت سےآج اُس سال کی ڈائری پر نظر پڑی تو یہ نوٹس بھی نظر آگئے ،’’ داشتہ آید بکار ‘‘ کے مصداق حج کے اس سیزن میں بہتر معلوم ہوا کہ یہ مختصر مگر قیمتی مضمون عازمین ِ حرمین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے ۔
’’ حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا کہ حرم شریف میں ہم سب حاضر ہیں ، حاضری کی یہ توفیق یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ، یہاں کی حاضری مال سے نہیں ہوسکتی تھی ، کیوں کہ دنیا میں ایسے مسلمان بھی ہیں جن کے پاس ا تنا مال ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ذاتی جہاز سے روزانہ حرم شریف آکر عمرہ کرلیاکریں، مگر اُنھیں اب تک حرم کی زیارت کی تک توفیق نہیں ہوئی ہے ، ان کے بر خلاف ایسے ایسے لوگ یہاں حاضر ہوجاتے ہیں جن کے ظاہری احوال اور مالی گنجائش کو دیکھ کر کوئی یقین بھی نہیں کرسکتا کہ وہ یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ معلوم ہواکہ ہماری یہ حاضری محض توفیق ِ الٰہی کا ثمرہ ہے ، اس لئےاللہ تعالیٰ کا برابر شکر اداکرتے رہیں ، ا س سے غفلت نہ برتیں ۔
دوسری بات یہ غور کرنے کی ہے کہ یہاں کی حاضری مقبولیت کی علامت ہے ، کوئی بھی آدمی اپنے گھر اُسی کو بلاتا ہے جس سے وہ راضی اور خوش ہوتا ہے ، جس سے آدمی ناراض ہو تا ہے اور ناپسند کرتا ہے اُسے اپنے گھر نہیں بُلاتا بل کہ آنے سے منع کردیتا ہے ، اب جب کہ اس عظیم رب نے ہمیں اپنے خاص دربار میں طلب کرلیا اور پہنچنے کے اسباب بھی کر دئیے تو ہمیں اس کی ذرہ نوازی اور بندہ پروری کی قدر کرنی چاہیئے ، اور آداب ِ دربار کا لحاظ رکھتے ہوئے وقت گذارنا چاہیئے ۔
تیسری بات یہ ہےکہ یہاں ہم لوگ دعائیں تو جتنی چاہیں مانگیں جو چاہیں مانگیں ، البتہ ان پانچ دعائوں کا بہ طور خاص اہتمام رکھیں ۔
- منفعت : یہاں بلانے کا ایک مقصد لیشھدوا منافع لھم بھی ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دنیا کی ہر منفعت وضرورت کو طلب کرنے کا اہتمام رکھیں ۔
- برکت : یہ شہر شہر ِ برکت ہے اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لِلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً اس مبارک شہر میں برکت تو ہے ہی ہم مانگنے کا بھی اہتمام کریں ، مال کی برکت ، صحت کی برکت ، عمر کی برکت ، اولاد کی برکت ، حافظے کی برکت ، علم کی برکت ہر چیز کی برکت اس برکت والے مقام میں اللہ تعالیٰ سے ضرور مانگتے رہیں ۔
- حفاظت : یعنی امن ، یہ شہر امن کا شہر ہے وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْن ، یہاں اللہ تعالیٰ سے ہر طرح کا امن مانگتے رہیں ، گناہوں کی نحوست سے ، کفار کی سازشوں سے ، برے ماحول کے اثرات سے ،مایوسی کے نقصانات سے ، جرأت وجسارت کے خطرات سے ہر قابلِ حفاظت شئے سے حفاظت اور مامونی کی دعائیں کرتے رہیں۔
- ہدایت : یہ جگہ ھُدیً لِّلْعٰلَمِیْنَ ہے ۔ یہاں اپنے لئے ، اپنے گھر والوں کے لئے ا پنے دوستوں کے لئےاور سارے عالم کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے رہیں ۔
- للہیت: اپنی دعائوں میں اہتمام کے ساتھ اعمال میں اخلاص و للٰہیت اور قبولیت بھی مانگتے رہیں وَلِّٰلہِ عَلیَ النَّاسِ حجُّ الْبَیْتِ میں حج کی فرضیت کے حکم سے بھی پہلے ِللّٰہیت کا ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ حج میں بہ طور خاص نیت کی درستگی وسلامتی کی ضرورت ہے ، اس لئے بہ طور خاص اس کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے رہنا چاہئیے ۔
راقم سطور عرض کرتا ہے کہ للٰہیت اگرچہ قبولیت ہی کی علامت ہے مگر چوں کہ مناسکِ حج کی ہر نیت میں فیسرہ لی وتقبلہ منی سکھایا گیا ہے ، اس لئے سُھولیت وقُبولیت کی دعا کا بھی اہتمام رکھا جائے ، پھر اس میں تعمیم کرکے عمر بھر کے دینی ودنیوی محنتوں کے لئےبھی سہولیت وقبولیت کو مانگتے رہنے کا اہتمام کر لیا کیجئے ۔
ایک دفعہ میں منیٰ کے لئےنکلتے ہوئے مرشدی محی السنہ حضرت ہردوئی رحمہ اللہ سے مناسک کی ادائیگی میں سہولت کی دعا کی درخواست کیا تو فرمایا ’’سہولت کے لئے بھی دعا کرتا ہوں اور قبولیت کے لئے بھی ‘‘ اس میں تعلیم تھی کہ مسنون دعا ءکے مطابق سہولت فی العمل کافی نہیں قبولیتِ عمل اس سے بڑی ضرورت ہے ۔
حضرت محی السنہ ؒ کا ذکر آیا تو حرمِ مکّی ہی میں کی ہوئی اُن کی ایک اور نصیحت یاد آگئی ، اسے بھی لکھ دیتا ہوںتاکہ سب کے کام آئے ۔
فرمایا کہ: ’’ حرم مکہ میں رہتے ہوئے ہر عمل میں عقیدۂ توحید کے استحکام کی مشق کریں اور حرم ِ مدینہ میں ہر وقت اتباعِ سنت کی تمرین کرتے رہیں ، پھر جب یہاں سے واپس ہوںتو اپنے لئے ،اپنے گھر والوں کے لئے اور دوستوں کے لئے مکہ مکرمہ سے معنوی تحفہ توحید کی مضبوطی کا اور مادی تحفہ زمزم کا لےجائیں ، مدینہ منورہ سے معنوی تحفہ عشق واتباعِ محمدی کا اور مادی تحفہ مدنی کھجوروں کالے کر جائیں ۔باقی جو کچھ یہاں نظر آتا ہےسب سراب ہے اور ہرجگہ موجود ہے ، اس سے دھوکہ نہ کھائیں نہ اس میں مشغول ہوں۔
اور فرمایا کہ ’’ ایک مہینے کا خرچ گھر پر کتنا ہوتا تھا اور اس مہینےمیں سب مصارف ملا کر کتنا خرچ ہوا ہے اس کا تخمینہ لگالو ، پھر سوچو کہ یہ سال بھر کے بہ قدر بل کہ ا س سے بھی زائد ہے،اس مہینے میں میں جو خرچ کر رہا ہو ںوہ حج کے علاوہ مسجد حرام اور مسجد ِ نبوی کی نمازوں کا ثواب حاصل کرنے کے لیے کیا ہوں ، اگر میں ان مسجدوں کی با جماعت نمازوں کا اہتمام نہ کروں تو کیا فائدہ ؟ کیا اتنا پیسہ درو دیوار کی زینتوں کو دیکھنےیا یہاں کی مارکٹوں میں گھومنے کے لئےکیا ہوں ؟ اس سوچ سے انشاء اللہ یہاں کے اوقات ضائع ہوجانے سے بچ جائیں گے‘‘۔
امید کہ ناظرین کرام کو یہ’’ وقتی تحفہ ‘‘پسند اور کام آئے گا ۔ عازمین حرمین شریفین سے گذارش ہےکہ یاد رہے تو راقم آثم کو بھی اپنی دعائوں میں شامل فرمائیں ۔فجزاکم اللہ احسن الجزاء ۔ والسلام علی النبی الکریم

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے شیخ حضرت والا دامت برکاتہم کی عمر میں اور صحت میں خوب ترقی عطا فرمائے اور حضرت والا دامت برکاتہم کی ان نصیحتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالی حضرت والا دامت برکاتہم کا سایۂ رحمت ہم پر تادیر قائم فرمائے اور ہمیں بھی حج کی سعادت سے مالا مال فرمائے آمین یارب العالمین ۔
AAmeen Ya Rabbal Aalameen Allah Hazrat ki Tawajjoh ka Jazakallah Aanhazrat ki meherbani har ahem maoqe par tamam mutalliqeen ko barabar yaad rakhte hain allahhazrat ko jazaye khair ata farmaye Aameen Hazrat ki Baargahe rab aor harame mhboobe rab ki hazri aasaan ho aor qubool ho Aameen banda azhar bhi apne aor apne ahlo ayaal aor tamaam aqraba k liye dua ki ilteja karta hai allah mubaarak kare Aameen
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ حضرت کےسایہ کو ہم طلبہ واساتذہ پر تادیر قائم رکھے اور حضرت کی عمر میں برکت اور کا مل صحت عطاء فرما اور امت تادمِ آخر تک آپ سے استفادہ کرتے رہے
ماشاءاللہ بہت خوب اللہ تبارک و تعالی حضرت مولانا عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم کی عمر میں خوب برکت عطا فرمائے اور اساتذہ اور عملہ کی اللہ تعالیٰ نظرِ بدسےحفاظت فرمائے